بلوچستان کی شاہراہوں پر ایک ہفتے میں 538 حادثات؛ 1122 کی بروقت کارروائی، 695 افراد کو طبی امداد فراہم

 

کوئٹہ : بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک حادثات کی صورتحال تشویشناک رہی۔ میڈیکل ایمرجنسی رسپانس سینٹرز (MERC) 1122 بلوچستان نے اپریل 2026 کے دوسرے ہفتے کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق صوبے بھر کی مختلف شاہراہوں پر سینکڑوں حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔

جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ایک ہفتے کے دوران MERC 1122 کے مراکز نے مجموعی طور پر 538 حادثات پر ریسپانس دیا، جس کے نتیجے میں 695 زخمیوں کو موقع پر یا ہسپتال منتقلی کے دوران طبی امداد فراہم کی گئی۔ بدقسمتی سے ان حادثات میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ، مراکز پر 100 آؤٹ ڈور پیشنٹ (OPDs) کیسز بھی ڈیل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ دباؤ ژوب اور خضدار کے ٹروما سینٹرز پر رہا:

ٹروما سینٹر ژوب (N-26): 143 حادثات کے ساتھ سرفہرست رہا، جہاں 156 زخمیوں کو طبی امداد دی گئی۔

ٹروما سینٹر خضدار (N-25): 100 حادثات رپورٹ ہوئے اور 137 افراد کو ٹریٹ کیا گیا۔

ونڈر، لسبیلہ (N-25):یہاں 47 حادثات میں 50 افراد زخمی ہوئے۔

لکم پاس، مستونگ (N-25): 31 حادثات رپورٹ کیے گئے۔

اس ہفتے کے دوران ہونے والے جانی نقصان میں سے 2 اموات راکھنی (N-70) اور 1 ہلاکت ناسئی، قلعہ سیف اللہ (N-50) کے قریب واقع حادثات میں ریکارڈ کی گئی۔

N-25 (کراچی-کوئٹہ شاہراہ): اس شاہراہ پر واقع مراکز (لکم پاس، کلات، خضدار، لسبیلہ) سب سے زیادہ متحرک رہے جہاں حادثات کی شرح بلند رہی۔ N-50 اور N-65: ان شاہراہوں پر بھی حادثات کا تسلسل برقرار رہا، خاص طور پر قلعہ سیف اللہ اور کچھی کے علاقوں میں۔

N-10 (مکران کوسٹل ہائی وے):لیاری، پسنی اور گوادر کے علاقوں میں بھی معمولی سے درمیانے درجے کے حادثات رپورٹ ہوئے

ایم ای آر سی ریسکیو 1122 ان کی ٹیمیں 24 گھنٹے شاہراہوں پر الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے ڈرائیورز سے اپیل کی ہے کہ وہ شاہراہوں پر تیز رفتاری سے گریز کریں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔

Spread the love

Check Also

یونیورسٹی آف تربت میں بی آر ایس پی کا سیمینار، ڈی سی کیچ کااہم خطاب

  تربت: بی آر ایس پی (Balochistan Rural Support Programme) کے زیر اہتمام یونیورسٹی آف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے