پاکستان: بجٹ 2026-27 سے قبل حکومتی اتحادیوں میں اختلافات، بجٹ خطرے میں،عدم اعتماد کی بھی افواہیں گردش کررہی ہیں۔

 

اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے دوران حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان بعض اہم آئینی اور مالیاتی معاملات پر اختلافات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم سے متعلق نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مشاورت جاری تھی۔ اطلاعات کے مطابق حکومتی سطح پر پیپلز پارٹی کو تجویز دی گئی تھی کہ پہلے این ایف سی ایوارڈ کے بعض نکات پر بات چیت کی جائے، جبکہ بعد ازاں آئینی معاملات، بشمول اٹھارویں ترمیم، پر غور کیا جائے گا۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اگر وفاقی اور صوبائی اختیارات سے متعلق معاملات زیر بحث لانے ہیں تو تمام امور کو ایک جامع فریم ورک کے تحت بیک وقت سامنے لایا جائے۔ پارٹی قیادت کے نزدیک صرف این ایف سی ایوارڈ پر علیحدہ مذاکرات مناسب نہیں ہوں گے۔

 

سیاسی ذرائع کے مطابق اسی اختلافِ رائے کے باعث متعلقہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا، جبکہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے بعض شیڈول تبدیلیوں اور اجلاسوں کی تاریخوں میں توسیع کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے ان خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

 

مبصرین کے مطابق حکومتی اتحاد کے اندر موجود اختلافات نے سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بعض حلقوں میں مستقبل کے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے مختلف امکانات پر گفتگو جاری ہے۔ سوشل اور سیاسی حلقوں میں وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق بھی غیر مصدقہ اطلاعات زیر گردش ہیں، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری یا مستند سیاسی ذریعے نے تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

 

ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ صورتحال کو بہتر بنانے اور اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطوں اور ملاقاتوں کا امکان موجود ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان میں انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز وفاقی بجٹ، اتحادی سیاست اور وفاق-صوبہ تعلقات کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں تمام اہم دعووں اور قیاس آرائیوں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، جبکہ حتمی سیاسی فیصلے متعلقہ آئینی اور جمہوری فورمز پر ہی سامنے آئیں گے۔

Spread the love

Check Also

تربت: ٹریفک پولیس اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کیلئے ریفریشر کورس کا آغاز

    تربت: ڈسٹرکٹ پولیس کیچ نے ٹریفک ونگ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بہتری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے