کیا کیچ میں جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ دوبارہ کھلے گی۔۔؟

اداریہ

بلوچستان اپڈیٹس

بلوچستان کے سرحدی اضلاع کی معیشت طویل عرصے سے سرحدی تجارت سے وابستہ رہی ہے۔ ضلع کیچ بھی انہی علاقوں میں شامل ہے جہاں ہزاروں خاندانوں کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے عبدوئی بارڈر کی بندش نے نہ صرف کیچ بلکہ بلوچستان کے دیگر کئی علاقوں میں بھی معاشی مشکلات کو جنم دیا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں کمی، بے روزگاری میں اضافہ اور مقامی معیشت کی سست روی ایسے مسائل ہیں جن کا سامنا عوام مسلسل کر رہے ہیں۔

ان حالات میں سیاسی جماعتوں، بارڈر کمیٹیوں، تاجر تنظیموں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بارہا حکومت اور متعلقہ اداروں سے عبدوئی بارڈر یا اس کے متبادل کسی کراسنگ پوائنٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ حالیہ دنوں میں یہ مطالبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا جب کوئٹہ میں منعقدہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کیچ کے لیے کراسنگ پوائنٹ کھولنے کی تجویز زیر غور آنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ سوراپ مند بارڈر اب انتظامی طور پر ضلع تمپ کا حصہ بن چکا ہے، جس کے بعد ضلع کیچ عملاً کسی فعال کراسنگ پوائنٹ سے محروم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ احساس شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیچ کے عوام کو معاشی مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک نئے کراسنگ پوائنٹ کا قیام ناگزیر ہے۔

عید کے بعد تربت میں مکُران ڈویژن کی سیاسی، سماجی اور تجارتی شخصیات پر مشتمل ایک وفد نے آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) سے ملاقات کی۔ وفد میں سابق وزیراعلیٰ و رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سابق وزراء سید احسان شاہ اور لالا رشید دشتی سمیت دیگر نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ وفد نے متفقہ طور پر کیچ کے لیے ایک کراسنگ پوائنٹ کھولنے کا مطالبہ پیش کیا۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ دشتک، کپکپار یا جالگی میں سے کسی ایک مقام کو فعال بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اگر زمینی حقائق اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے تو جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ کی بحالی ایک مؤثر اور قابلِ عمل آپشن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے خطے میں معاشی سرگرمیوں کا پہیہ دوبارہ تیزی سے چل سکے گا۔

تاہم اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ نیا کراسنگ پوائنٹ ایسے ماڈل کے تحت کھولا جائے جس سے عام شہری، چھوٹے تاجر اور مقامی زمیاد مالکان براہِ راست مستفید ہو سکیں۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے بجا طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے پنجگور ماڈل کو اختیار کیا جائے تاکہ بارڈر تجارت کے ثمرات چند مخصوص گروہوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا فائدہ وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچے۔

اب نظریں متعلقہ حکام کے عملی فیصلوں پر مرکوز ہیں۔ اگر حکومت اور ادارے واقعی سرحدی علاقوں کے عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے خواہاں ہیں تو جالگی بارڈر کی بحالی ایک مثبت اور دور رس اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف کیچ کی معیشت کو سہارا دے گا بلکہ عوام کے اس دیرینہ مطالبے کو بھی پورا کرے گا جو گزشتہ دو برسوں سے مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

Spread the love

Check Also

Dandelion:بلوچی میں آلکو۔۔۔۔ایک نظر انداز شدہ مگر قیمتی قدرتی نعمت۔۔ایک اہم دوائی

  قدرت نے انسان کو بے شمار ایسی نعمتیں عطا کی ہیں جنہیں ہم اکثر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے