پیپلزپارٹی امن کمیٹی کے سربراہ وعزیر بلوچ نے ضمانت کی درخواست دے دی،اے ٹی سی کا جواب بھی آگیا۔

 

 

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کالعدم تنظیم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق عزیر بلوچ نے اپنے وکیل حیدر فاروق کے ذریعے سات مختلف مقدمات میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ یہ مقدمات تھانہ کلاکوٹ میں درج ہیں، جن میں قتل، پولیس مقابلہ اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 5 کے جج نے سینٹرل جیل کراچی کے جوڈیشل کمپلیکس میں کیس کی سماعت کی، جہاں پراسیکیوشن اور دفاع کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔
اس موقع پر وکیل صفائی حیدر فاروق کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت کو مؤقف پیش کیا کہ ان مقدمات کا ٹرائل 12 سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کو ضمانت دی جا چکی ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ قانونی تقاضوں اور یکسانیت کے اصول کے تحت عزیر بلوچ کو بھی ضمانت دی جائے، تاہم عدالت نے یہ درخواستیں مسترد کر دیں۔

Spread the love

Check Also

نورمحمدنورل شدید علیل ہوگئے۔ نجی ہسپتال میں داخل ،آپریشن کافیصلہ

    کراچی:بلوچی زبان کے معروف گلوکار نورمحمد نورل شدید علالت کے باعث کراچی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے