350000سے زائد وٹامنز اور سپلیمنٹس زہریلے خطرے کے باعث واپس طلب

 

لندن: ڈیلی میل کے مطابق ملک بھر میں فروخت ہونے والی آئرن پر مشتمل 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد غذائی سپلیمنٹس کی بوتلیں زہریلے خطرے کے پیش نظر واپس منگوا لی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرر کمپنی Vitaquest International، جو Bari Life، Arey اور NuLife سمیت متعدد برانڈز تیار کرتی ہے، نے یہ اقدام اس وقت اٹھایا جب معلوم ہوا کہ ان سپلیمنٹس کی پیکجنگ بچوں کے لیے محفوظ (چائلڈ ریزسٹنٹ) نہیں ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس خامی کے باعث بچے غلطی سے ان سپلیمنٹس کی زیادہ مقدار استعمال کر سکتے ہیں، جو شدید بیماری یا حتیٰ کہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
متاثرہ مصنوعات اپریل 2023 سے فروری 2026 کے درمیان 13 سے 130 ڈالر فی بوتل کے حساب سے فروخت کی گئیں۔ یہ مصنوعات Erewhon، Vitamin Shoppe اور Amazon جیسے بڑے ریٹیلرز پر دستیاب تھیں۔
ان سپلیمنٹس میں شامل برانڈز میں Arey، Bari Life، Bird&Be، Biote، Dr. Fuhrman، NuLife، HMR، Bariatric Pal، Noevir، Zenbean اور Sakara شامل ہیں۔
اب تک کسی قسم کی بیماری یا اموات کی اطلاع نہیں ملی، تاہم صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان مصنوعات کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور کمپنی سے چائلڈ ریزسٹنٹ ڈھکن یا پیکج حاصل کریں۔
امریکی کنزیومر پروڈکٹ سیفٹی کمیشن کے مطابق آئرن پر مشتمل سپلیمنٹس کے لیے قانون کے تحت بچوں سے محفوظ پیکجنگ لازمی ہے، جبکہ مذکورہ مصنوعات اس معیار پر پوری نہیں اترتیں، جس سے زہریلے اثرات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئرن جسم میں آکسیجن کی ترسیل کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کی زیادہ مقدار توانائی کے نظام کو متاثر کر کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
آئرن پوائزننگ کی ابتدائی علامات میں متلی، الٹی، پیٹ درد، اسہال اور معدے سے خون بہنا شامل ہیں۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ علامات شدید ہو کر شاک اور موت تک لے جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق آئرن کی زیادتی کا علاج ممکن ہے، لیکن اس کے لیے فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔
صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ مصنوعات فوری طور پر تلف کر دیں یا مکمل رقم کی واپسی کے لیے اسٹورز پر واپس کر دیں۔

Spread the love

Check Also

امریکہ کا ایران میں جدید بنکر بسٹر بم کا استعمال ، تفصیلات سامنے آگئیں

    بلوچستان اپڈیٹس ،رپورٹ خلیج فارس کے قریب کشیدگی میں حالیہ اضافہ دیکھنے میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے