امریکہ کا ایران میں جدید بنکر بسٹر بم کا استعمال ، تفصیلات سامنے آگئیں

 

 

بلوچستان اپڈیٹس ،رپورٹ

خلیج فارس کے قریب کشیدگی میں حالیہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں امریکہ نے ایران کے زیرِ زمین عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید بنکر بسٹر بم استعمال کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملہ خاص طور پر ایرانی انڈر گراؤنڈ میزائل سائٹس کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

 

دفاعی ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں GBU-72 نامی جدید بم استعمال کیا گیا، جو تقریباً 2300 کلوگرام وزنی ہے اور جی پی ایس گائیڈنس کے ذریعے اپنے ہدف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بم خاص طور پر مضبوط کنکریٹ اور زمین کے اندر موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق اس بم کی اصل penetration صلاحیت خفیہ رکھی گئی ہے، تاہم اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ کئی میٹر موٹے کنکریٹ کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بم کو امریکی فضائیہ کے F-15E جیسے طیاروں سے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو اسے دیگر بھاری ہتھیاروں کے مقابلے میں زیادہ لچکدار بناتا ہے۔

 

اگرچہ سوشل میڈیا پر اس حملے سے متعلق مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، لیکن حکام کی جانب سے مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ بعض رپورٹس میں اسرائیل کی شمولیت کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Spread the love

Check Also

350000سے زائد وٹامنز اور سپلیمنٹس زہریلے خطرے کے باعث واپس طلب

  لندن: ڈیلی میل کے مطابق ملک بھر میں فروخت ہونے والی آئرن پر مشتمل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے