کوئٹہ (نمائندہ خصوصی) جرمنی کے نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیواردو کے مطابق بلوچستان میں بچوں کی غذائی قلت ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، صوبے میں ہر دوسرا بچہ غذائی قلت کا شکار ہے، جس کے باعث ہزاروں بچوں کی صحت اور مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق غربت، خوراک کی قلت، صحت کی ناکافی سہولیات، اور صاف پانی کی محدود دستیابی وہ بنیادی عوامل ہیں جو بچوں کی جسمانی نشوونما کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو صوبے کے ہزاروں بچے دائمی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اگرچہ بعض اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں ناکافی ہیں۔ ماں اور بچے کی صحت کے لیے جامع پالیسی، غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی، اور دیہی علاقوں میں صحت و صفائی کی سہولیات میں بہتری ناگزیر ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور دیگر تنظیموں نے بھی بلوچستان میں غذائی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website