
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) ترمیمی بل کی منظوری دے دی گئی۔ اس بل کو حکومت نے آزادیٔ اظہار اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا، تاہم صحافی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بل کو آزادیٔ صحافت پر قدغن قرار دے کر شدید احتجاج کیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون تنقید کو دبانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ صحافیوں نے قومی اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ اس بل کو واپس لیا جائے، کیونکہ یہ صحافت اور عوامی اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعے صحافیوں کو دھمکایا جا رہا ہے اور یہ ایک جمہوری معاشرے کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صحافت کے تحفظ اور آزادیٔ رائے کے فروغ کے لیے اقدامات کرے، نہ کہ قدغنیں لگائے۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website