پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن لازمی قرار

 

اسلام آباد:(بلوچستان اَپڈیٹس خصوصی رپورٹ)وفاقی حکومت نے پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز) ایکٹ میں ترامیم کا بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے، جس کے تحت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان میں رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔ ترمیمی بل کے تحت "سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی” قائم کی جائے گی، جس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہوگا اور صوبائی دارالحکومتوں میں اس کے دفاتر بنائے جائیں گے۔

اتھارٹی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن، غیر قانونی مواد ہٹانے، اور خلاف ورزی کی صورت میں پلیٹ فارم بند کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ جھوٹی خبروں یا غیر قانونی مواد پھیلانے پر 3 سال قید یا 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

اتھارٹی کی تشکیل 9 اراکین پر مشتمل ہوگی، جن میں سیکرٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے، اور چیئرمین پیمرا شامل ہوں گے۔ چیئرمین اور دیگر اراکین کی تعیناتی 5 سال کے لیے کی جائے گی۔

وزارت قانون کے مشیر بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ یہ ترامیم جعلی خبروں اور منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے لائی جا رہی ہیں، جبکہ آزادی اظہار رائے کو یقینی بنایا جائے گا۔

کچھ حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ترامیم آزادی اظہار کو محدود کرنے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ بل پر پارلیمانی بحث کے بعد اسے قانونی شکل دی جائے گی۔

 

Spread the love

Check Also

پیپلزپارٹی امن کمیٹی کے سربراہ وعزیر بلوچ نے ضمانت کی درخواست دے دی،اے ٹی سی کا جواب بھی آگیا۔

    کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کالعدم تنظیم پیپلز امن کمیٹی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے