سندھ کی 17 جامعات میں تدریسی سرگرمیاں معطل، اساتذہ کا احتجاج جاری

 

سندھ کی 17 سرکاری جامعات، بشمول جامعہ کراچی، میں تدریسی سرگرمیاں تین دن سے معطل ہیں۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) سندھ چیپٹر کی قیادت میں اساتذہ نے حکومت کے خلاف احتجاج کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد جامعات کی خودمختاری کا تحفظ اور بیوروکریٹک مداخلت کا خاتمہ ہے۔

اساتذہ کی تنظیم کا مطالبہ ہے کہ جامعات کی قیادت کے لیے ایسے افراد کو مقرر کیا جائے جو تدریسی اور تحقیقی تجربہ رکھتے ہوں، نہ کہ بیوروکریٹس کو، جنہیں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے چیلنجز کی سمجھ نہیں۔ فپواسا نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے اصلاحات اور بیوروکریٹک قیادت پر نظرثانی نہ کی تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔

اساتذہ نے کنٹریکٹ پر بھرتیوں کی پالیسی پر بھی شدید تنقید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی اساتذہ کے روزگار کو غیر محفوظ بناتی ہے اور تعلیمی معیار پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

طلبہ اور والدین نے احتجاج کے باعث تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد اس مسئلے کا حل نکالے تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل محفوظ رہے۔

فپواسا سندھ کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کے نقصان کو روکنے کے لیے مجبوراً یہ قدم اٹھا رہے ہیں اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعلیمی اداروں کو سیاسی اور بیوروکریٹک مداخلت سے آزاد رکھے۔

 

Spread the love

Check Also

پیپلزپارٹی امن کمیٹی کے سربراہ وعزیر بلوچ نے ضمانت کی درخواست دے دی،اے ٹی سی کا جواب بھی آگیا۔

    کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کالعدم تنظیم پیپلز امن کمیٹی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے