تین ماہ میں 15سے زائد  ڈکیتی و چوری کی وارداتیں: بلیدہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، شہری عدم تحفظ کا شکار

 

بلیدہ (نامہ نگار) سال 2026 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران بلیدہ اور گردونواح میں جرائم کی خطرناک لہر دیکھنے میں آئی ہے، جہاں جنوری سے مارچ تک ڈکیتی، چوری کے کم از کم 15 بڑے واقعات پیش آئے، جبکہ متعدد وارداتیں رپورٹ بھی نہیں ہو سکیں۔

رپورٹ کے مطابق 4 جنوری کو خالد دکاندار رونگان والے سے مسلح ڈاکوؤں نے سائیکل، موبائل اور نقدی چھین لی۔ 8 جنوری کو میناز پی ٹی سی ایل دفتر سے بیٹری چوری کی گئی، جبکہ اسی روز عامر ولد اسلم ساکن ریکسر بٹ سے کورے پشت کے علاقے میں موٹرسائیکل چھین لی گئی۔

12 جنوری کو سجاد علی ولد سبزل کی بٹ ڈمبانی میں قائم ہول سیل دکان کو نذر آتش کردیا گیا، جبکہ 15 جنوری کو ماسٹر محمد اختر کے گھر کو رات کی تاریکی میں آگ لگا دی گئی۔ 20 جنوری کو سوراپ بلیدہ کے رہائشی گہرام کے گھر سے سائیکل چوری کرلی گئی۔

12 فروری کو حاتم ولد علی محمد ساکن جاڈین کو کورے پشت جاڑین بازار میں مسجد سے نکلتے وقت فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا۔ 23 فروری کو چھب بلیدہ سے راشد نامی شخص کے موبائل، نقدی اور سائیکل چھین لیے گئے۔

مارچ میں وارداتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 13 مارچ کو بٹ بلیدہ چارپل کے قریب بلال ولد باھوٹ سے موٹرسائیکل اور نقدی چھین لی گئی۔ 14 مارچ کو الندور میں یوسف ولد مراد جان سے موٹرسائیکل، ایک لاکھ روپے نقدی اور موبائل لوٹ لیا گیا۔

22 مارچ کو عبدالحکیم ساکن کورے پشت بٹ کی دکان توڑ کر صفایا کردیا گیا۔ 23 مارچ کو ندیم عبدالغفار سے موٹرسائیکل، نقدی اور موبائل چھین لیے گئے، جبکہ 24 مارچ کو محمد جان عبدالمجید سے بھی کورے پشت بٹ میں اسی نوعیت کی واردات پیش آئی۔

29 مارچ کو ایک ہی دن دو بڑی وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں سلو بلیدہ میں زبیر آٹوز کی دکان توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان لوٹ لیا گیا، جبکہ بٹ کلگ دپ میں اشفاق احمد نامی نوجوان سے موٹرسائیکل، نقدی اور موبائل چھین لیے گئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق رواں عرصے کے دوران مزید متعدد شہری بھی وارداتوں کا شکار ہوئے، تاہم خوف یا دیگر وجوہات کی بنا پر انہوں نے رپورٹ درج نہیں کرائی یا میڈیاتک انکی رسائی نہ ہوسکی۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان وارداتوں میں مبینہ طور پر ایسے عناصر ملوث ہیں جو جدید اسلحہ خصوصاً کلاشنکوف کے ساتھ آزادانہ گھوم رہے ہیں اور انہیں کسی قسم کی چیکنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔ تین ماہ گزرنے کے باوجود کسی بھی واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ آنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور وہ سیکیورٹی اداروں سے سخت نالاں ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مؤثر اقدامات کیے جائیں، ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور بلیدہ میں امن و امان بحال کیا جائے۔

Spread the love

Check Also

بلوچستان کی شاہراہوں پر ایک ہفتے میں 538 حادثات؛ 1122 کی بروقت کارروائی، 695 افراد کو طبی امداد فراہم

  کوئٹہ : بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک حادثات کی صورتحال تشویشناک رہی۔ میڈیکل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے