19 مارچ 2026 کو برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، جاپان اور کینیڈا کے رہنماؤں نے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں ایران کی جانب سے خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں پر حملوں، تیل و گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرون اور میزائل حملے کرنے اور تجارتی بحری راستوں کو روکنے جیسے اقدامات بند کرے۔
مشترکہ بیان میں زور دیا گیا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت عالمی قانون کا بنیادی اصول ہے، اور اس کی خلاف ورزی کے اثرات پوری دنیا، خاص طور پر غریب ممالک پر پڑیں گے۔
رہنماؤں نے تیل کی عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر پیداوار بڑھانے پر بھی کام کریں گے۔ اس کے علاوہ، عالمی توانائی ایجنسی کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا جس کے تحت ہنگامی تیل ذخائر جاری کیے جائیں گے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے تعاون فراہم کیا جائے گا۔
آخر میں تمام ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور عالمی امن و خوشحالی کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website