بلوچستان کی سیاست اور فیصل آباد کا گھنٹہ گھر

 

تحریر::: ڈاکٹر طاہر حکیم بلوچ
سعید فیض کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق زمانہ طالب علمی سے ہی قائم ہے۔ جب اسّی کے اواخر میں ہم دونوں ایک ہی بی ایس او میں ہم منصب تھے وہ ڈگری کالج تربت اور راقم گورنمنٹ ماڈل ھائی اسکول کے سینئریونٹ سیکریٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ زونل ورکنگ کمیٹی کے اجلاسوں سمیت دیگر تنظیمی سرگرمیوں میں ایک ساتھ حصّہ لیتے رہے۔ بعد ازاں وہ بی ایس او تربت زون کے جنرل سیکریٹری اور زونل صدر منتخب ہو گئے۔ تربت کالج سے انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے کراچی چلے گئے اور ہم نے کوئٹہ کا رخ کر لیا۔ نوّئے کی پوری دہائی بلوچ قوم پرستانہ سیاست کا ایک تاریک دور تھا۔ سوویت بیوروکرٹیک سسٹم کے زوال اور افغان ثور انقلاب کی ناکامی نے بلوچ تحریک پر بھی اپنے انتہائی منفی اثرات مرتب کیے تھے۔ نظریاتی اور قومی سیاست کی جگہ آہستہ آہستہ پارلیمانی سیاست،حلقہ پرستی، ٹھیکہ داری نظام، مراعات و مفاد پرستی اور موقع پرستی کی سیاست جگہ بنا رہی تھی۔ اِسی دوران بی ایس او کی سیاست میں بھی کئی مد و جزر آئے، 1987کی تقسیم کے گہرے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے تھے کہ 1990کے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پرڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی قیادت میں قائم بی این ایم (بلوچستان نیشنل موومنٹ) دو حصوں میں تقسیم ہو گئی جس کے اثرات ایک مرتبہ پھر بی ایس اوپر پڑے اور بی ایس او کا ایک تیسرا دھڑا رضا شاہ بلوچ کی قیادت میں معرض وجود میں آیا جس نے اختر مینگل کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ واضح رہے کہ پہلے سے دو دھڑے بی ایس او سھب اور بی ایس او پجّار موجود تھے۔ یوں سعید فیض کی تنظیم بی ایس اوسھب نے ۱۹۹۴میں بی ایس او مینگل کے ساتھ انضمام کر لیا جس کے نتیجے میں رحیم بلوچ ایڈوکیٹ چیئرمین اور جسٹس پزیر بلوچ بی ایس او کے سیکریٹری جنرل منتخب ہو گئے تو سعید فیض مرکزی کمیٹی کے رکن بنے۔ چیئرمین رحیم بلوچ کے بعد وہ مسلسل دو دفعہ بی ایس او مینگل کے مرکزی چیئرمین رہے۔ لیکن جب اس کی دوسری مدت کے دوران سردار عطا اللہ مینگل کی نئی قائم کردہ جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی میں ایک خود ساختہ بحران پیدا کیا گیا کہ جس کے نتیجے میں سردار اختر مینگل کو مدت سے پہلے وزارت اعلیٰ سے رخصت ہونا پڑا تو بحران اور اختلافات نے بی ایس او مینگل کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔جس بی ایس او کی سر برائی سعید فیض کر رہے تھے وہ بھی دو
حصّوں میں تقسیم ہو گئی۔ تنظیم کے مرکزی سیکریٹری جنرل منظور بلوچ اور میر حمل نے اختر مینگل کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
جب جولائی 1998 میں بی این پی کے پہلے کونسل سیشن کے موقع پر پارٹی کے صوبائی وزرا اسد بلوچ، سید احسان شاہ ، میر محمد علی رند، میر غفور کلمتی،اسرار زہری، سردار بہادر خان بنگلزئی و دیگر نے پارٹی سے بغاوت کر کے اپنا ایک الگ پارٹی دھڑا بی این پی عوامی کے نام سے قائم کر کے مہیم خان بلوچ کو اپنا صدر اور اسد اللہ بلوچ کو سیکریٹری جنرل بنایا تو سعید فیض نے بی ایس او کی آزادانہ حیثیت اور تشخص کو بر قرار رکھنے کی بجائے اس خود ساختہ غیر نظریاتی بحران اور تقسیم کا حصّہ بن کر سرکاری حمایت یافتہ گروپ کی بھر پور حمایت کا اعلان کر دیا۔ بلکہ انہوں نے بحیثیت چیئرمین بی ایس او کوئٹہ پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کی تقسیم اور بحران کا سارا ملبہ ممتاز بزرگ قوم پرست رہنما سردار عطا اللہ مینگل اور ان کے برخوردار سردار اختر جان مینگل پر ڈال دئیے حتیٰ کہ ان کے لیے ایک مخصوص اصطلاح’’ لندن گروپ‘‘ کی اختراع بھی کر لی۔ اس لیے اگلے دن کوئٹہ کے تمام اخبارات نے یہ شہ سُرخی لگائی کہ ’’لندن گروپ نے ایک دفعہ پھر بی ایس او
کے پیٹھ پہ خجنر گھونپ دیا‘‘۔
یعنی انہوں نے 1987اور 1991میں ہونے والے بی ایس او کی تقسیم کا ملبہ بھی سردار عطااللہ مینگل پر ڈال دیا یوں سعید فیض نے
سرکاری سر پرستی میں قائم بی این پی عوامی کو اپنے سیاسی و فکری پروگرام کے قریب تر قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ ایک معاہدے پر بھی دستخط کر دیئے۔ جسے ایک تاریخی معاہدہ کہا گیا۔ جس پر ایک طرف بی این پی عوامی کے مرکزی صدر مہیم خان بلوچ اور سکریٹری جنرل اسد اللہ بلوچ نے جب کہ دوسری طرف بطور چیئر مین سعید فیض اور ان کے ساتھیوں نے دستخط کئے۔ جو ریکارڈ پر موجود ہے۔ یوں سعید فیض نے بی این پی عوامی کو بی ایس او کا ایک دھڑا پلیٹ میں رکھ کر پیش کردیا اور بی این پی عوامی پر قوم پرستی کا اسٹیمپ لگا کر اسے بلوچستان کا حقیقی عوامی نمائندہ پارٹی اورنجات دہندہ کے طور پر تسلیم کر دیا، بعد ازاں سعید فیض نے اپنے دھڑے کا کونسل سیشن اپریل 2001میں خضدار میں منعقد کر کے اسے بی ایس او اسٹار کا نام دے کر قیادت حمید شاھین اور شبیر بلوچ کے حوالے کر کے خود بی این پی عوامی کا عملی طور پر حصّہ بن گئے۔ واضح رہے بی این پی کی تقسیم کے نتیجے میں سردار اختر جان کے خلاف ان کے اپنے سابقہ ساتھیوں نے عدم اعتماد کی ایک تحریک پیش کر دی، اس وقت بلوچستان اسمبلی میں بی این ایم حئی کے دونوں اراکین اسمبلی نے پارٹی فیصلے کے مطابق سردار اختر جان مینگل کی حمایت کی چونکہ تحریک عدم اعتماد کو پہلے سے ہی منظم کیا گیا تھایوں یہ تحریک کامیاب ہوگئی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ کے جان محمد جمالی کو نئے قائد ایوان منتخب کیا گیا یہ باغی اراکین اُس حکومت کا حصّہ بن گئے جنہوں نے بلوچستان میں کرپشن اور لوٹ مار کی ایک نئی اور انوکھی تاریخ رقم کردی۔ جب اکتوبر 1999میں جنرل پرویز مشرف نے ملک پر مارشل لا نافز کر کے نواز شریف کی حکومت کو برخاست کر دیا تو انہوں نے احتساب کا ایک نیاشوشاچھوڑ کہ پکڑ دھکڑ شروع کر دی تو بی این پی عوامی کے ان سابق وزراء میں چند ایک کوملک سے فرار کروایا گیا اور چند ایک احتساب بیورو کے شکنجے میں آ کر گرفتار ہو گئے۔ جب 2002میں جنرل مشرف نے عام انتخابات کا اعلان کر دیا چونکہ انہیں دوبارہ ان قیمتی موتیوں کی ضرورت پڑی تو انہیں ڈرائی کلینر سے گزار کر انتخابی میدان میں اتارا گیا۔ پرویز مشرف کی حمایت و مخالفت کے مسئلے پر بی این پی عوامی دو حصّوں میں تقسیم ہوگئی۔ حاصل بزنجو مرحوم اور سردار ثناء اللہ زہری کی سربرائی میں ایک نیا دھڑا بی این ڈی پی کے نام پر سامنے آیا، سعید فیض نے حاصل بزنجو اور بی این ڈی پی کا ساتھ دیا۔ جب 2004میں بی این ڈی پی اور بی این ایم حئی کے مابین انضمام کے نتیجے میں نیشنل پارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تو سعید فیض اس پورے انضمامی عمل میں ساتھ رہے اس لیے وہ این پی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں، لیکن دروغ بگر دن راوئی جب انہیں اکاموڈیٹ نہیں کیا گیا تو انہوں نے جلد نیشنل پارٹی سے بھی اپنی راہیں جدا کر کے دوبارہ اپنی پرانی پارٹی جس کی قیادت اسد اللہ بلوچ اور سردار اسرار اللہ زہری کر رہے تھے میں شمولیت اختیار کر لی، جب 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں بی این پی عوامی شدید اختلافات کا شکار ہو کر تین حصّوں میں سید احسان شاہ ، اسرار زہری اوراسد گروپ میں تقسیم ہو گئی۔تو سعید فیض نے اسد گروپ کا ساتھ دے کر بعد میں ان کے سیکریٹری جنرل بن کر اسد بلوچ کو ’’راجی رھشون‘‘یعنی قومی قائد کاخطاب بھی دے دیا۔ لیکن ایک ڈیڑھ مہینے پہلے انہوں نے بی این پی اسد گروپ کی بنیادی رکنیت سے استعفی دے کر رواں مہینے سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی این پی مینگل میں شمولیت اختیار کرتے ہوئےاب کی باریہ خطاب سردار اختر جان مینگل کو دے دیا ہے۔ شاید انہوں نے یہ خطاب اسد بلوچ سے واپس لے کر اب سردار اختر جان مینگل کو عطا کی ہے، حالانکہ انہوں نے چند سال پہلے اختر جان مینگل کو’’لندن گروپ‘‘ کانام دیا تھا۔ اس لیے سعید فیض کی نئی شمولیت نے سوشل میڈیا پر ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے کر کئی سوالات سامنے لے آئے ہیں۔ کسی نے سعید فیض کی شمولیت کو ایک انقلابی عمل قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی کارکنوں کی فتح اور سعید فیض کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا مظہر قرار دے دیا ہے۔ تو کسی اور نے اسے بلوچستان کی سیاست میں ایک نئی جوہری تبدیلی کا پیش خیمہ کہا ہے۔ جبکہ کچھ ناقدین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا سعید فیض نے بی این پی میں شمولیت اختیار کی ہے یا حمل کلمتی کو جوائن کیا ہے؟ ویسے ہی یہ ایک عجیب سوال ہے، پتہ نہیں کیوں ناقدین بی این پی اور میر حمل
کلمتی کو ایک دوسرے سے الگ سمجھ کراس طرح کے چھبتے سوال پوچھ رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ شکر کریں کہ سعید فیض نے پیپلز پارٹی اور مسلم
لیگ کا انتخاب نہیں کیا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔
شاید سعید فیض نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ کل کون کہاں ہوگا اس کا تو کسی کو پتہ نہیں نہ اسکی کوئی گارنٹی لے سکتا ہے
اور نہ دے سکتا ہے البتہ سیاست میں چند بنیادی اوصاف کا ہونا انتہائی ضروری ہےجن میں کردار اور مستقل مزاجی سر فہرست ہیں۔
ویسے ہی بلوچستان کی سیاست فیصل آباد کی گھنٹہ گھر کی مانند ہے گھوم پھر کر دوبارہ پھر اسی جگہ پہ آ کر ٹہر جانا جہاں سے سفر شروع ہوا تھا یہ مسلم لیگی طرز سیاست جو بلوچستان پر چھائی ہوئی ہے۔ چونکہ بلوچ پارلیمانی جماعتوں کے پاس آرگنائزیشن،اصول،میرٹ، نظریاتی مؤقف،قومی سوچ اورتنظیمی ڈسپلین کا شدید فقدان ہے۔ اب تک وہ ایک منظم اندرونی تنظیم بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ اس لیے ان کا بھی انحصار روایتی سیاست، الکیٹلبز اور شخصیات پر ہے۔ اس کی واضع مثال نیشنل پارٹی میں مجیب الرحمٰن محمد حسنی ،سردارثناء اللہ زہری ، خالد لانگواور نواب محمد خان شاھوانی کی ہے۔ یا بی این پی میں سید احسان شاہ اس کی ایک اور مثال ہیں۔ جنہوں نے 1998 میں بی این پی کو توڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن سردار اختر جان نے اپنے ہی کسی مخلص اور نظریاتی سیاسی ورکر کو نظر انداز کر کے ان کی اہلیہ کو سینیٹر بنوایا۔ موصوف کو اپنی پارٹی کی کوٹہ سے ایک انتہائی منافع بخش وزارت (محکمہ صحت) دلوائی، پھر 2024 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کیا، اس کے لیے بھر پور انتخابی مہم چلائی لیکن جب پارٹی کو موصوف کی ضرورت پڑی تو وہ ساتھ دینے اور اپنی وفاداری ثابت کرنے کی بجائے پتلی گلی سے نکل
گئے۔
اس جدید نوآبادیاتی سیاسی ڈھانچہ اور طرز سیاست نے سیاسی کارکنان کی بھی مٹی پلیدکر دی ہے انہیں بدعنوان، موقع پرست اور مفاد پرست بنا دیا ہے ، وہ ٹھیکہ دار زیادہ اور سیاسی کارکن کم لگتے ہیں۔ ان کی لائف اسٹائل ،ذہنیت اور مؤقف میں کافی تبدیلی آ چکی ہے، وہ ہر چیز کو اپنا بنیاد ی حق سمجھتے ہیں۔ ٹھیکہ، پارٹی عہدہ، پارٹی ٹکٹ ، مراعات، نوکری، گھنٹہ، پوسٹنگ،ٹرانسفر وغیرہ اگر انہیں یہ چیزیں پارٹیاں دینے میں کامیاب نہ ہوئیں تو وہ وفاداریاں بدلنے میں ذرا بھی دیر نہیں کریں گے۔ اور تو اوراس نوآبادیاتی نحوست نے بی ایس او کی سابقہ کیڈر کی سیاسی کریکٹر کو بھی مکمل تباہ کر دیا ہے اس لیے ایک سابق مرکزی رہنما ایک طرف ایک کار و باری سیاستدان کے ترجمان بنے ہوئے ہیں تو دوسری طرف ایک سرکاری بیورکریٹ کے سرکاری بیانیے کو انتہائی ڈھائی کے ساتھ سوسائٹی میں پھیلا رہے ہیں۔ اب یہ چیزیں باعث ندامت نہیں بلکہ باعث افتخاربن چکی ہیں۔ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے رد انقلابی روئیوں اور سرگرمیوں نے سوسائٹی اور سیاست دونوں کی ہیئت بدل دی ہےاور سیاست کو بدنام اور رُسوا سرِ بازار کیا ہے۔ بنابریں بلوچستان میں قومی سیاست نہیں بلکہ پارلیمانی سیاست ایک گالی بن چکی ہے۔ نوجوان نسل نے تو اس سیاست سے مکمل لا تعلقی اختیار کی ہے بلکہ وہ اس طرز سیاست سے سخت متنفر ہیں ان کے سوالات کے جوابات کسی بھی ان پارلیمانی جماعت کے پاس نہیں ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے لیے ایک الگ راستے کا انتخاب کر لیا ہے، جس کی حتمی منزل سماجی تبدیلی ہے، یہ نئی نسل اپنا لیڈر اور پولیٹیکل تھنِکرزخود ہیں انہیں کسی رہنما اور دانشور کی ضرورت نہیں۔ ان کےپیشرو اور اکابرین کی دی گئی قربانیاں ان کے راہ نشان ہیں۔ اب اس جنریشن کے پاس کسی کی اداکاری اور صدا کاری نہیں چلے گی۔ کوئی بھی ایکٹنگ کامیاب نہیں ہو گئی، کوئی بھی فلم ہٹ ہونے والی نہیں ہے۔ اگر یہی
چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگئی۔

Spread the love

Check Also

استاد ستّار بلوچ: بلوچی موسیقی کا انقلابی کردار تحریر:: ڈاکٹر طاہر حکیم بلوچ

    اُستاد عبدالستّار بلوچ کا شمارجدید بلوچی موسیقی کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے