بلوچستان میں ایک بار پھر لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا معاملہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے بعض حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے تجاویز سامنے آئیں تو دوسری جانب لیویز اہلکاروں، سیاسی رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور سماجی تنظیموں نے اس اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
یہ معاملہ محض ایک انتظامی فیصلے کا نہیں بلکہ عوامی اعتماد، قبائلی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری سے جڑا ایک نازک مسئلہ بن چکا ہے۔
بلوچستان میں لیویز فورس کا قیام برطانوی دور میں عمل میں آیا، جب مقامی قبائل کو اپنے علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اس فورس کے اہلکار عام طور پر مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے بااعتماد افراد ہوتے ہیں، جو اپنے علاقے کے رسم و رواج، قبائلی تعلقات اور مقامی تنازعات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھی بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں لیویز فورس عوامی سطح پر ایک مؤثر اور قابلِ قبول ادارہ سمجھی جاتی ہے۔
صوبائی اور بعض وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دو متوازی فورسز—پولیس اور لیویز—کا وجود انتظامی تضاد پیدا کرتا ہے۔
ان کے مطابق:
پولیس ایک جدید تربیت یافتہ اور تحقیقاتی صلاحیت رکھنے والا ادارہ ہے۔
لیویز فورس کے پاس وسائل اور جدید سہولتوں کی کمی ہے۔
ایک متحد فورس کی تشکیل سے امن و امان کے نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو گی۔
صوبے بھر میں یکساں سیکیورٹی پالیسی نافذ کرنا ممکن ہو جائے گا۔
دوسری طرف لیویز اہلکار اور ان کے حامی سیاسی و سماجی حلقے اس اقدام کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق:
لیویز فورس عوام کے درمیان سے اُٹھی ہوئی فورس ہے، جو مقامی لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
پولیس میں ضم ہونے سے ان کی ثقافتی شناخت اور مقامی خودمختاری متاثر ہوگی۔
لیویز اہلکاروں کو پولیس جیسی مراعات اور ترقی کے مواقع حاصل نہیں۔
لیویز فورس کا کارکردگی کا ریکارڈ کئی علاقوں میں پولیس سے بہتر رہا ہے۔
ضم کرنے سے عوام کا اعتماد مجروح ہوگا، جو امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بلوچستان کی سول بیوروکریسی، بیشتر سیاسی جماعتیں، قبائلی عمائدین اور سماجی کارکن لیویز فورس کے تحفظ کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔
ان کے نزدیک لیویز فورس:
بلوچستان کی ثقافتی اور تاریخی شناخت ہے۔
دور دراز علاقوں میں عوامی رابطے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔
پولیس کے برعکس، لیویز قبائلی نظام کے اندر رہ کر امن قائم کرتی ہے۔
اس فورس کی موجودگی سے علاقائی توازن اور مقامی نظم و نسق برقرار رہتا ہے۔
ان حلقوں کا خیال ہے کہ لیویز کو ختم کرنے کے بجائے اس کو مزید مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ وہ پولیس کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر صوبے میں امن و استحکام کو بہتر بنا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کی کوشش کے پیچھے صرف اصلاحات نہیں بلکہ اختیارات کی مرکزیت کا پہلو بھی شامل ہے۔
چند مبصرین کے مطابق یہ کوشش وفاقی سطح پر سیکیورٹی کنٹرول بڑھانے کا حصہ سمجھی جاتی ہے، جسے صوبائی حلقے خودمختاری کے خلاف اقدام تصور کرتے ہیں۔
اسی طرح بلوچستان کے کئی اضلاع میں پولیس کا نظام مؤثر نہیں جبکہ لیویز فورس دہائیوں سے ان علاقوں میں امن و انصاف کا نظام سنبھالے ہوئے ہے۔
لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا مسئلہ دراصل دو مختلف طرزِ حکمرانی کے درمیان تصادم ہے — ایک مرکزی، قانونی اور جدید نظام جبکہ دوسرا مقامی، روایتی اور عوامی نظام۔
بلوچستان میں امن و امان کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کسی بھی فیصلے سے قبل مقامی آبادی کے اعتماد اور قبائلی ڈھانچے کو مدنظر رکھے۔
لیویز فورس کو ختم کرنے یا ضم کرنے کے بجائے اسے جدید تربیت، بہتر سہولیات اور ٹیکنالوجی فراہم کر کے بلوچستان کے امن کے لیے ایک مضبوط ادارہ بنایا جا سکتا ہے۔
کیونکہ آخرکار، امن صرف بندوق سے نہیں بلکہ اعتماد، رشتہ اور شناخت سے قائم ہوتا ہے ، اور لیویز فورس انہی بنیادوں پر کھڑی ہے۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website