بے نقاب باتیں / تحریر: حفیظ اللہ بنگلزئی
مچھ، جو ضلع بولان کا ایک اہم اور تاریخی علاقہ ہے، عرصہ دراز سے ترقیاتی وعدوں اور حکومتی دعوؤں کا مرکز رہا ہے۔ ہر حکومت کے دور میں مچھ کے لیے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے، منصوبوں کے اعلانات ہوئے، مگر افسوس کہ ان میں سے بیشتر صرف کاغذوں تک محدود رہے۔ سرکاری رپورٹوں میں اسکول، سڑکیں، ہسپتال اور پانی کی اسکیمیں مکمل دکھائی جاتی ہیں، مگر حقیقت میں عوام اب بھی ان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
شہر اور نواحی دیہات میں ایسے کئی منصوبے ہیں جن پر لاکھوں روپے خرچ دکھائے گئے لیکن وہ یا تو شروع ہی نہیں ہوئے یا ادھورے چھوڑ دیے گئے۔ کہیں اسکول کی عمارت تو بن گئی مگر اساتذہ تعینات نہیں، کہیں واٹر سپلائی اسکیم کا افتتاح ہوا مگر آج تک پانی نہیں آیا۔ کچھ سڑکیں ایسی بھی ہیں جو افتتاح کے چند ماہ بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں، کیونکہ تعمیراتی معیار پر کوئی نگرانی نہیں تھی۔
یہ تمام صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ مچھ میں ترقیاتی نظام شفافیت سے کوسوں دور ہے۔ ٹھیکیداروں اور محکماتی اہلکاروں کے درمیان غیر رسمی مفاہمت نے عوامی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ فنڈز خرچ ہو جاتے ہیں مگر عوام کے حصے میں صرف وعدے آتے ہیں۔
اہلِ مچھ کا کہنا ہے کہ ہر سال بجٹ میں ترقیاتی منصوبے شامل کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ گلیاں آج بھی خستہ حال ہیں، سرکاری عمارتیں کھنڈر بن چکی ہیں، اور صحت و تعلیم کی سہولیات صرف نام کی رہ گئی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مچھ کے تمام ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ پچھلے چند برسوں میں مختص کیے گئے کروڑوں روپے کہاں خرچ ہوئے۔ جب تک احتساب نہیں ہوگا، کاغذوں میں ترقی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور عوام بنیادی حقوق سے محروم رہیں گے۔
وقت آگیا ہے کہ مچھ کی ترقی فائلوں سے نکل کر حقیقت میں نظر آئے۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website