یونیورسٹی آف تربت کے ملازمین کا احتجاج، گرینڈ الائنس کی کال پر دفاتر کی تالہ بندی، قانونی حقوق کے تحفظ کا عزم۔

 

یونیورسٹی آف تربت کے تمام تدریسی، غیر تدریسی، انتظامی اور تکنیکی ملازمین نے حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے، "بلوچستان گرینڈ الائنس” کی کال پر انتظامی دفاتر کو تالے لگا دیے اور مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

احتجاج کا آغاز یونیورسٹی کی فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے لیکچر تھیٹر میں منعقدہ اجلاس سے ہوا، جہاں "آل ایمپلائز الائنس یونیورسٹی آف تربت” کے پلیٹ فارم سے تمام شعبوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد تمام ملازمین ایک پرامن ریلی کی صورت میں انتظامی بلاک کی طرف روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے گرینڈ الائنس کی کال پر لبیک کہتے ہوئے تمام انتظامی دفاتر کو تالے لگا دیے۔

یونیورسٹی کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

مبمراں نے حکومت بلوچستان کے اس نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی ایک خودمختار ادارہ ہے، اور تنخواہوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف یونیورسٹی سینٹ ہی کر سکتی ہے، جس کی سربراہی گورنر بلوچستان کرتے ہیں۔ اس لیے حکومت کی براہ راست مداخلت نہ صرف ادارہ جاتی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی میں تنخواہوں کی کٹوتی ظالمانہ قدم۔

احتجاجی مقررین کا کہنا تھا کہ تربت ایک پسماندہ اور سخت جغرافیائی علاقہ ہے جہاں معمولی علاج کے لیے بھی شہریوں کو کراچی جانا پڑتا ہے۔ ایسے میں ایک گریڈ 1 ملازم کی تنخواہ میں 6 سے 7 ہزار روپے کی کٹوتی کرنا اسے فاقوں پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کے آئین میں تنخواہ کا تحفظ بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اور اس پر سمجھوتہ کسی صورت قبول نہیں۔

"ہم آئینی و قانونی حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔ ہم کسی غیر قانونی نوٹیفکیشن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔”

 

یونیورسٹی آف تربت کے ملازمین نے واضح کر دیا ہے کہ: انتظامی دفاتر آج سے تاحکمِ ثانی بند رہیں گے۔ تمام تعلیمی و انتظامی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ اس احتجاج کو اُس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک حکومت بلوچستان اپنا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیتی۔

 

ملازمین نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس نوٹیفکیشن کو منسوخ کرے، یونیورسٹی کی خودمختاری کا احترام کرے، اور ملازمین کے آئینی، قانونی و انسانی حقوق کو تسلیم کرے۔ بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید سخت اور وسیع کیا جائے گا۔

Spread the love

Check Also

بلوچستان کی شاہراہوں پر ایک ہفتے میں 538 حادثات؛ 1122 کی بروقت کارروائی، 695 افراد کو طبی امداد فراہم

  کوئٹہ : بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک حادثات کی صورتحال تشویشناک رہی۔ میڈیکل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے