واپڈا کا ظلم… کیچ کے عوام کہاں جائیں؟ تحریر: دودا خان

 

کیچ کے عوام روزانہ واپڈا کی ناانصافیوں اور غیر انسانی رویے کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر کسی علاقے کا ٹرانسفارمر خراب ہو جائے یا لائن میں کوئی خرابی آ جائے، تو واپڈا کا ایک ہی جواب ہوتا ہے:

"آپ کے علاقے میں غیر قانونی کنیکشنز ہیں، جب تک انہیں نہیں ہٹایا جائے گا، ہم مرمت نہیں کریں گے۔”

یہ رویہ اس حد تک جابرانہ ہو چکا ہے کہ جب مجبوری میں ٹرانسفارمر ورکشاپ لے بھی جایا جائے تو کہا جاتا ہے:

"یہ خرابی غیر قانونی کنیکشنز کی وجہ سے ہے، اس کا خرچ عوام خود برداشت کریں۔”

مگر سوال یہ ہے:

جن شہریوں نے باقاعدہ میٹر لگوایا ہے، ہر ماہ بل ادا کرتے ہیں، ان کا کیا قصور؟

وہ بجلی کے لیے پیسے بھی دیتے ہیں اور تکلیف بھی سہتے ہیں۔ مرمت کے نام پر الگ سے رقم وصول کرنا، اور پھر بھی بجلی فراہم نہ کرنا، کیا یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انصاف؟

51/52 ڈگری کی جھلسا دینے والی گرمی میں کیچ کے عوام کو 24 گھنٹوں میں بمشکل 8 یا 9 گھنٹے بجلی میسر آتی ہے، وہ بھی بے ترتیب۔ بچے بلک رہے ہیں، بیمار تڑپ رہے ہیں، بزرگ بے حال ہیں، مگر ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

بجلی — بنیادی حق یا امیروں کی مراعات؟

امیر طبقہ تو جنریٹر، سولر سسٹم اور بیٹریوں سے اپنے گھر روشن رکھتا ہے، لیکن ایک مزدور، جو روزانہ 1200 روپے کماتا ہے، جب شام کو تھکا ہارا گھر آتا ہے، تو اس کے بچے پوچھتے ہیں:

"ابو! بجلی کب آئے گی؟ آپ تو بل دیتے ہیں، پھر اندھیرے میں کیوں رہتے ہیں؟ اور جب بجلی نہیں آتی تو پھر بل کیوں آتا ہے؟”

بیچارہ مزدور خاموش ہو جاتا ہے۔ سوچتا ہے کہ گھر کا خرچ چلاؤں یا بجلی کا بل دوں؟ اور اگلی صبح واپڈا والے آ کر کہتے ہیں:

"بل جمع نہیں کروایا، اس لیے کنیکشن کاٹ دیا گیا۔”

قانون صرف غریب کے لیے؟

غریب کے لیے قانون سخت ہے، مگر اداروں کی نااہلی، بلیک میلنگ اور کرپشن پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عوام بلبلا رہے ہیں، مگر واپڈا کے افسران مزے میں ہیں۔

ہماری پکار:

ہم وزیراعلیٰ بلوچستان، واپڈا حکام، اور وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:

کیچ کے عوام کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا فوری نوٹس لیا جائے

بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے

واپڈا کی عوام دشمن پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے

ٹرانسفارمر مرمت کی آڑ میں ہونے والی بلیک میلنگ بند کی جائے

جن صارفین نے میٹر لگایا ہے اور بل ادا کر رہے ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے

یہ عوام کا حق ہے، کسی پر احسان نہیں۔ ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے، اور ماں اپنے بچوں کو اندھیرے میں نہیں چھوڑا کرتی۔

Spread the love

Check Also

بلوچستان کی شاہراہوں پر ایک ہفتے میں 538 حادثات؛ 1122 کی بروقت کارروائی، 695 افراد کو طبی امداد فراہم

  کوئٹہ : بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک حادثات کی صورتحال تشویشناک رہی۔ میڈیکل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے