راجی مچی اور مقتدرہ یلان بلوچ

راجی مچی اور مقتدرہ

یلان بلوچ

بلوچی میں ایک کہاوت ہے کہ "گوک ءَ ھڑکہ بیت گڑا ہرکسءَ دپ جنت” بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب گوادر میں اجتماع کا اعلان ہوتے ہی حکومت اور مقتدر حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے.

راجی مچی کا معنی قومی اجتماع،بلوچ یکجہتی کمیٹی وقتاً فوقتاً مختلف معاملوں پر احتجاج کرتی نظر آتی ہے آج تک بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کوئی غیر آئینی وغیر قانونی مطالبہ یا چیز پیش نہیں کی ہے کہ جس سے ریاستی ادارے تشویش میں مبتلاء رہیں.

نا وہ آزادی مانگ رہےہیں نا ہی وہ کوئی غیر آئینی مطالبہ کرر ہے ہیں،انہوں نے اپنے مطالبات بھی پیش کیے ہیں جن میں بلوچستان میں منشیات کی روک تھام، کینسر سے اموات، سیکورٹی کے نام پر غیر آئینی اقدامات اور لوگوں کی عزت نفس کو مجروح کرنا،آئے روز بلوچستان کی سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی روک تھام، باڈری کاروبار پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کرنا،سمیت ایسے ہی مطالبات ہیں جنہیں کوئی رد نہیں کرسکتا.

ویسے بھی اس ملک پر قابض طبقوں کی خواہش ہیکہ پورے ملک سمیت بلوچستان سے سیاسی ماحول کا خاتمہ ہوسکے تاکہ یہاں علی مدد جتک سمیت ایسے لوگوں کو عوام پر مسلط کیا جائے جنہیں صرف پگڑیاں اچھالنا اور کتے کی طرح بھوکنا آتا ہو اور کچھ نہیں ۔

اسی لیے مکران سے لیکر کوئٹہ تک پارلیمنٹ میں ایسے ہی لوگوں کو بزور بوٹ مسلط کیا گیا جنہیں نا عوام پہچانتی ہے اور ناہی انکا رشتہ عوام سے ہے وہ چاپلوسی کے سوا کچھ جانتے نہیں.

ہماری پارلیمانی پارٹیوں کی دکھتی رگوں پر مقتدرہ نے ہاتھ رکھاہے اور انہیں خصی کردیاہے وفاق سے لیکر صوبوں تک پارٹیاں نہ ہونے کے برابر ہیں،کیونکہ وہ کسی بھی عوامی مسائل پر نا احتجاج کرسکتےہیں نا لب کشائی کرسکتےہیں.

بلوچستان میں سرکار نے آپریشن کیے،لوگوں کو جبراً لاپتہ کرکے لاشیں پھینک دیں،شورش کے نام پر کوئی ایسا گھر نہیں جو متاثر نہ ہو لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ نا سرکار کچھ حاصل کرسکا اور ناہی بلوچ عوام کے دلوں میں اس ملک کی محبت بٹھائی جاسکی بلکہ نوجوانوں کیلئے سیاست کے دروازے بند کردیئے گئے تو وہ بھی سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کرکے مسلح مزاحمت کا حصہ بننا شروع ہوگئے.

ریاست بے رحم طاقت بن کر قہر برساتا رہےگا تو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا،آج بلوچستان کے ایک عام نوجوام سے لیکر ایک سیاسی رہنماء تک ہرکسی کے چہرے پر افسردگی کا عالم چھائی ہوئی ہے وجہ ریاست کی ناکام پالیسیاں ہیں.

ریاست اور اسکے اداروں کے پاس کم ازکم اتنی سکت اور برداشت ہونی چاہیے کہ وہ ایک اجتماع کو برداشت کرسکیں،اجتماع کا راستہ روک کر جو حماقت کی جارہی ہے وہ مزید شعلہ بن کر بھڑک اٹھےگی اور سب کو اپنی لپیٹ میں لےگی لہذا ایک عاجزانہ مشورہ ہیکہ لوگوں کا راستہ نہ
روکیے بلکہ انکے دلوں پر غموں کا جوبوجھ ہے اس گرہن کو کھولنے دیجیئے.

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ایک سیاسی کارکن ہیں اگر وہ بلوچ،بلوچستان کی بات کرتےہیں تو اسمیں کوئی قباحت نہیں،طاقت کا استعمال کرکے ماضی میں کیا حاصل کیا جا چکا ہے جو اب کیاجا ئے گا، بلوچستان پہلے سے زخم خوردہ ہے اور زخمی بلوچستان کو مزید زخموں سے چھلنی نہ کیا جائے بلکہ لوگوں کو بولنے دیاجائے،انہیں سنا جائے،انہیں موقع دیا جائے.

ریاست جب سننے کی سکت نہیں رکھتی، تو ایسے میں ہر طرف عدم برداشت کا ماحول جنم لیتاہے لہذا اپنے سیکورٹی اداروں اور پولیس کو بجائے افراتفری پھیلانے کیلئے استعمال کیا جائے بلکہ انہیں یہ حکم دیا جائے کہ وہ اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی مدد وتعاون کریں،انکے سیکورٹی کا خیال رکھیں.

کیونکہ یہ اجتماع ہر صورت منعقد ہوگا اور لوگ جوق درجوق اس کی تیاری کررہےہیں،آپ کیسے اپنے عوام کو روکیں گے،کیسے انکے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر پھر آرام سے سوئیں گے بھوکے،پیاسے،زخم خوردہ لوگوں کو کب تلک خاموش کرتے رہوگے!لہذا اگر طاقت کے استعمال اور رکاوٹوں سے اس اجتماع میں خلل آنے والا نہیں لہذا آپ اپنا کام کریں لوگ اپنا کام کریں گے یہی سب کیلئے بہتر ہوگا.

Spread the love

Check Also

استاد ستّار بلوچ: بلوچی موسیقی کا انقلابی کردار تحریر:: ڈاکٹر طاہر حکیم بلوچ

    اُستاد عبدالستّار بلوچ کا شمارجدید بلوچی موسیقی کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں …

6 comments

  1. Hi i think that i saw you visited my web site thus i came to Return the favore Im attempting to find things to enhance my siteI suppose its ok to use a few of your ideas

  2. Wow amazing blog layout How long have you been blogging for you made blogging look easy The overall look of your web site is magnificent as well as the content

  3. Kalorifer Sobası odun, kömür, pelet gibi yakıtlarla çalışan ve ısıtma işlevi gören bir soba türüdür.

  4. In a recent response published on 27 February 2015, corresponding author Dr Maria Esteve Gassent and co authors 4 provided flaB sequences from several of the tick specimens from Texas and claimed that Infection levels using a second genetic marker flaB, confirmed the results originally obtained by the 16S rRNA 23S rRNA gene intergenic spacer IGS of B priligy and cialis Woke in the middle of the night with moderate pain and a hot sensation in the area

  5. priligy tablets online It is unclear from these data whether the presence of oedema was strongly associated with soft tissue infection

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے