تربت: کیچ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام "قانون کی حکمرانی اور خطہ و سماج پر اثرات” کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن بار روم میں منعقد ہوا۔ اس پینل ڈسکشن کی صدارت کیچ بار کے صدر عبدالمجید شاہ ایڈووکیٹ نے کی۔ اس موقع پر جسٹس (ر) شکیل احمد بلوچ، جسٹس (ر) عبدالحمید بلوچ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ خلیل احمد رونق ایڈووکیٹ اور جاڑین دشتی نے بھی خطاب کیا۔
خضدار میں خاتون بی بی اسماء کے اغواء کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔
جسٹس (ر) شکیل احمد بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان آج جن حالات سے دوچار ہے، قوم پرستی، سیاسی جماعتوں، وکلاء، میڈیا اور سول سوسائٹی کا متحد ہونا ضروری ہے تاکہ ان حالات سے چھٹکارا ممکن ہو سکے کیونکہ عوامی قوت کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی حکمرانی کا حقیقی تصور یہ ہے کہ تمام شہریوں کو برابر کے حقوق میسر ہوں، اور یہ حقیقی جمہوریت سے وابستہ ہے۔ جمہوریت ایک ارتقائی عمل ہے لیکن اب یہ عمل ڈی ریل ہو چکا ہے اور بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ کو بقاء کا مسئلہ درپیش ہے، اور موجودہ حکومت مجھے ایک سال سے زیادہ چلتی ہوئی نظر نہیں آتی، کیوں کہ عوامی سپورٹ کم ہو رہی ہے اور حکومت نے پییکا ایکٹ منظور کرکے میڈیا کے ساتھ جنگ چھیڑ دی ہے۔
جسٹس (ر) عبدالحمید بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جبری گمشدگیاں بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی تاریخ قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے حوالے سے شاندار نہیں رہی، کیونکہ عدلیہ نے ہمیشہ غاصبوں کو سپورٹ کیا ہے۔ آئین میں ایسی کوئی دفعہ نہیں ہے جو جبری گمشدگی کی اجازت دیتی ہو، مگر حکومتی ادارے ماورائے قانون اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں مصلحت پسندی کا شکار ہیں اور جمہوری رویے اور اقدار ختم ہو چکے ہیں جس کے منفی اثرات سماج پر پڑ رہے ہیں۔
جسٹس (ر) عبدالحمید بلوچ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جمہوریت اس وقت ہی مضبوط ہو گی جب ادارے مضبوط ہوں گے، اور ملک میں اختلاف رائے کو دشمنی سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے 77 سالوں میں جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکی۔ انہوں نے کہا کہ میں قوم پرست جماعتوں کے کردار سے مطمئن نہیں ہوں، خصوصاً جبری گمشدگیوں کے حوالے سے۔ یہ جماعتیں اپنے آپ کو نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کا پیداوار تو قرار دیتی ہیں مگر ان میں نیپ جیسی سیاسی مزاحمت نظر نہیں آتی۔ بلوچستان کی تاریخ مزاحمت پر مبنی ہے، اور اگر مزاحمت نہ ہوتی تو بلوچ تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتے۔
کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمجید شاہ ایڈووکیٹ نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ پینل ڈسکشن کے دوران متعدد اہم نکات پر اتفاق رائے پایا گیا، جن میں پییکا ایکٹ کو مسترد کیا گیا، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھی اتفاق کیا گیا، اور بلوچستان کے حوالے سے عالمی معاہدات میں بلوچستان کے حقوق کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی نیشنلسٹ جماعتوں اور بار ایسوسی ایشنز کو جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی جدوجہد تیز کرنی چاہیے۔
اسٹیج سیکرٹری کے فرائض کیچ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نیاز محمد ایڈووکیٹ نے سرانجام دیے۔ جبکہ پینل ڈسکشن کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کی سعادت سرفراز زامرانی ایڈووکیٹ نے حاصل کی ۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website