خصوصی رپورٹ\بلوچستان اپڈیٹس
بلوچستان کے ضلع کیچ کا مرکزی شہر تُربَت ایک بار پھر خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ وہ شہر جو کبھی کاروباری سرگرمیوں، سماجی ہم آہنگی اور نسبتاً پُرامن ماحول کے لیے جانا جاتا تھا، آج اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم کی لپیٹ میں ہے۔ دو معروف اور پرامن تاجروں شاہنواز گل جان اور حسیب یاسین کا اغوا صرف دو خاندانوں کا المیہ نہیں، بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک خطرناک سوالیہ نشان ہے۔
شاہنواز گل جان کو یکم دسمبر 2025 کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا، جبکہ حسیب یاسین کو 8 دسمبر 2025 کو اغوا کیا گیا۔ دونوں واقعات کو ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے،7 جنوری 2025 کو احتجاجی مظاہرے کے بعد رات نو بجے تک قریب حسیب یاسین کو بلیدہ کے علاقے سے بازیاب کرایاگیا۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ تاحال شاہنواز گل جان کی بازیابی کیلئےنہ کوئی واضح پیش رفت سامنے آ سکی ہے اور نہ ہی متاثرہ خاندان کو کسی قسم کا اطمینان دیا جا سکا ہے۔
یہ خاموشی سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ خاندان در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، سیاسی رہنما بیانات دے رہے ہیں، اور عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں، مگر ریاستی اداروں کی کارکردگی سوالوں کی زد میں ہے۔ اگر شہری اپنے شہروں میں محفوظ نہ ہوں، اگر تاجر کاروبار کرتے ہوئے جان کے خوف میں مبتلا ہوں، تو پھر ترقی، سرمایہ کاری اور استحکام کے دعوے محض کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں رہتے۔
تُربَت میں ہونے والے احتجاج محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ عوام کی بے بسی کا اظہار ہیں۔ آل پارٹیز کیچ، تاجر تنظیمیں، وکلاء، ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی کا ایک پلیٹ فارم پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہو چکا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جانب سے صورتحال کو “خطرناک” قرار دینا بھی ایک سنجیدہ تنبیہ ہے، جسے نظرانداز کرنا مستقبل کے لیے مزید عدم استحکام کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔
اغوا برائے تاوان کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو یا تو ریاستی رِٹ کا خوف نہیں رہا، یا انہیں یقین ہو چلا ہے کہ گرفت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ دونوں صورتیں یکساں طور پر تشویشناک ہیں۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت اور مؤثر کارروائی نہیں کرتے تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام شہری اور مقامی معیشت کو پہنچے گا۔
آج تُربَت کی بازاریں خاموش ہونے کے دہانے پر ہیں۔ تاجروں کی جانب سے مکران بھر میں شٹر ڈاؤن کی گئی، کاروبار سمٹ رہے ہیں اور روزگار خطرے میں ہے۔ یہ وہ قیمت ہے جو پورا معاشرہ چند مجرموں اور ریاستی غفلت کی وجہ سے ادا کر رہا ہے۔
ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ یہ ذمہ داری بیانات، یقین دہانیوں یا وقتی مذاکرات سے پوری نہیں ہوتی بلکہ عملی اقدامات، شفاف کارروائی اور نتائج سے پوری ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کو محض ردِعمل نہیں بلکہ واضح حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں آنا ہوگا۔
اگر شاہنواز گل جان کی بحفاظت بازیابی کو ترجیح نہ بنایا گیا، اگر اغوا برائے تاوان کے نیٹ ورکس کو توڑا نہ گیا، تو یہ مسئلہ صرف تُربَت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ عوام احتجاج کیوں کر رہے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو احتجاج پر مجبور کیوں کیا جا رہا ہے؟
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website