ایک تاریخی، مذہبی اور تہذیبی مطالعہ

 

تحریر انجینئر شہہ آصف غنی ابن شہہ عبدالغنی شہید۔ "عظیم سیلاب: مذاہب اور تہذیبوں کی مشترکہ یادداشت

h

انسانی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک مذہب، ایک قوم یا ایک خطے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ پوری انسانیت کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عظیم سیلاب بھی انہی آفاقی واقعات میں شامل ہے، جس کا ذکر آسمانی مذاہب سے لے کر قدیم تہذیبوں، اساطیری روایات اور مذہبی صحائف میں مختلف انداز میں ملتا ہے۔ یہ مماثلت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا یہ صرف اساطیر ہیں یا کسی عظیم تاریخی حقیقت کی بازگشت؟

1.انسان کی سرکشی

 

2.خدائی یا کائناتی ناراضی

 

3.ایک منتخب نجات یافتہ گروہ

 

4.اور بعد از تباہی نئی دنیا

کا تصور نمایاں ہے۔

 

اسلام میں سیلابِ نوحؑ

اسلامی تعلیمات میں سیلابِ نوحؑ کو ایک الٰہی سزا اور اخلاقی تنبیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

قرآنِ مجید کے مطابق حضرت نوحؑ نے صدیوں تک اپنی قوم کو توحید اور اصلاح کی دعوت دی، مگر جب قوم نے انکار اور استہزا کی روش نہ چھوڑی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک عظیم سیلاب آیا۔

قرآن سیلاب کو صرف پانی کی تباہی نہیں بلکہ انسانی سرکشی کے انجام کی علامت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ کشتی میں صرف اہلِ ایمان کو نجات دی گئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ بقا کا معیار نسل یا طاقت نہیں بلکہ کردار اور ایمان ہے۔

 

 

یہودیت اور عیسائیت (پرانا عہد نامہ)

پرانے عہد نامے (کتابِ پیدائش) میں نوح (Noah) کا واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

یہاں بھی سیلاب کی وجہ انسانی بداعمالی، تشدد اور اخلاقی زوال کو قرار دیا گیا ہے۔

نوح کو خدا کی طرف سے ایک کشتی بنانے کا حکم دیا جاتا ہے، جس میں انسانوں کے ساتھ جانوروں کے جوڑے بھی محفوظ کیے جاتے ہیں۔ سیلاب کے بعد قوسِ قزح کو خدا اور انسان کے درمیان عہد کی علامت بتایا گیا ہے کہ دوبارہ پوری زمین کو اس طرح غرق نہیں کیا جائے گا۔

 

 

اہم نکات:

1.کشتی کی تفصیلی تعمیر

 

2.جانوروں کے جوڑے

 

3.چالیس دن اور رات کی بارش

 

4.سیلاب کے بعد قوسِ قزح کا عہد

 

 

 

میسوپوٹیمیا: گلگامش اور اترا ہاسس

دنیا کے قدیم ترین سیلابی بیانات میسوپوٹیمیا (سومیری، اکادی، بابلی تہذیب) میں ملتے ہیں۔

Epic of Gilgamesh اور Atra-Hasis Epic میں ایک کردار اوٹناپشتم کو دیوتاؤں کی طرف سے آنے والے سیلاب کی پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔

یہاں سیلاب کی وجہ دیوتاؤں کا انسانوں کے شور اور بڑھتی آبادی سے نالاں ہونا بتایا گیا ہے۔ کشتی، جانوروں کی حفاظت اور بعد از سیلاب قربانی جیسے عناصر حیرت انگیز طور پر نوحؑ کے قصے سے مشابہ ہیں۔

 

 

حیران کن مماثلتیں:

1۔خدائی فیصلہ

2۔کشتی

3۔جانور

4۔قربانی

5۔بعد از سیلاب نئی زندگی

 

 

ہندو مذہب: منو اور متسیہ اوتار

ہندو مذہبی روایات میں منو کو انسانیت کا جدِ امجد مانا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دیوتا وشنو نے مچھلی (متسیہ اوتار) کی صورت میں منو کو آنے والے عظیم سیلاب سے آگاہ کیا۔

منو ایک کشتی تیار کرتا ہے، جس میں بیج، جانور اور مقدس علم محفوظ کیے جاتے ہیں۔ سیلاب کے بعد منو سے نئی انسانی نسل کا آغاز ہوتا ہے۔

یہ روایت سیلاب کو تخلیقِ نو اور کائناتی تطہیر کے عمل کے طور پر پیش کرتی ہے۔

 

سیلاب کے بعد:

1۔بیج

2۔علم

 

3۔انسان

دوبارہ دنیا کو آباد کرتے ہیں۔

یہ روایت سیلاب کو کائناتی تطہیر (Cosmic Reset) کے طور پر پیش کرتی ہے۔چینی تہذیب: یو دی گریٹ اور سیلاب

 

 

چینی روایت میں عظیم سیلاب کا ذکر مذہبی کم اور تہذیبی زیادہ ہے۔

یو دی گریٹ (Yu the Great) کو وہ حکمران مانا جاتا ہے جس نے طویل عرصے تک آنے والے تباہ کن سیلابوں پر قابو پایا۔

یہاں سیلاب دیوتاؤں کی سزا کے بجائے قدرتی آفت کے طور پر سامنے آتا ہے، اور انسان کی عقل، نظم و ضبط اور ریاستی نظام کو اس کا حل بتایا جاتا ہے۔

یہ تصور مشرقی فلسفے کی حقیقت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔

 

 

یہ بیانیہ مشرقی فلسفے کی ایک نمایاں مثال ہے جہاں:

 

1۔نجات معجزے سے نہیں

 

2۔بلکہ انسانی عقل، نظم اور محنت سے

حاصل ہوتی ہے۔

 

 

مصری تہذیب

قدیم مصری مذہب میں مکمل عالمی سیلاب کا واضح ذکر کم ملتا ہے، تاہم ابتدائی پانی (Nun) کا تصور موجود ہے، جہاں سے کائنات نے جنم لیا۔

کچھ مصری اساطیر میں انسانی بغاوت کے نتیجے میں دیوتاؤں کے ذریعے تباہی کا ذکر ملتا ہے، جو سیلابی تصورات سے فکری طور پر قریب ہے، اگرچہ عملی تفصیل موجود نہیں۔

 

 

 

یونانی و رومی روایت: دیوکالیون

یونانی اساطیر میں Deucalion اور Pyrrha کا قصہ ملتا ہے۔

زیوس انسانوں کی بداعمالیوں سے ناراض ہو کر عظیم سیلاب بھیجتا ہے۔ دیوکالیون ایک کشتی میں بچ جاتا ہے، اور بعد میں نئی انسانیت کا آغاز ہوتا ہے۔

رومی روایت نے اسی یونانی قصے کو اپنایا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سیلاب کا تصور ثقافتوں میں منتقل ہوتا رہا۔

امریکی، افریقی اور دیگر تہذیبیں

مایا، ازٹیک، انکا، افریقی قبائل اور آسٹریلوی مقامی روایات میں بھی عظیم سیلاب یا پانی سے دنیا کی تباہی کے قصے ملتے ہیں۔

اکثر میں ایک نیک انسان یا خاندان بچ جاتا ہے، اور دنیا ازسرنو آباد ہوتی ہے۔

 

نتیجہ: اتفاق یا اجتماعی یادداشت؟

عظیم سیلاب کا تصور مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں اس قدر مماثلت رکھتا ہے کہ اسے محض اتفاق قرار دینا مشکل ہے۔

یہ ممکن ہے کہ:

کوئی حقیقی عظیم قدرتی آفت انسانی تاریخ میں پیش آئی ہو

یا یہ انسانی شعور میں اخلاقی احتساب کی علامت بن چکی ہو

یا دونوں باتیں بیک وقت درست ہوں

سیلاب کی کہانی دراصل انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ جب طاقت، غرور اور ناانصافی حد سے بڑھ جائے تو فطرت اور تاریخ خاموش نہیں رہتیں۔

 

سائنسی و جغرافیائی زاویہ

ماہرین ارضیات کے مطابق:

آخری برفانی دور کے اختتام پر

سمندروں کی سطح میں شدید اضافہ

بحیرہ اسود اور میسوپوٹیمیا میں بڑے سیلاب

ان روایات کی ممکنہ بنیاد ہو سکتے ہیں۔

یہ سائنسی شواہد اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ سیلاب محض اساطیر نہیں بلکہ قدرتی تاریخ کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

نتیجہ: سیلاب بطور انسانی آئینہ

عظیم سیلاب ایک ایسا واقعہ ہے جو:

مذہب میں اخلاقی احتساب

اساطیر میں تخلیقِ نو

تاریخ میں قدرتی آفت

اور فلسفے میں انسانی غرور کی حد

کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ کہانی انسان کو یاد دلاتی ہے کہ:

جب طاقت، ظلم اور غرور حد سے بڑھ جائے تو فطرت اور تاریخ دونوں اپنا فیصلہ سناتی ہیں۔

 

(ادارے کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Spread the love

Check Also

بشیر احمد بڑیچ, کیچ میں اُمید، حوصلے اور تبدیلی کا نام :: تحریر. اکرم مقصود

  ضلع کیچ ایک طویل عرصے تک مسائل کی علامت سمجھا جاتا رہا۔ ایسا ضلع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے