بلوچستان کے بیشتر پسماندہ علاقوں کی طرح بلیدہ بھی طویل عرصے تک تعلیمی محرومیوں کا شکار رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں اسکولوں کی تعداد کم نہیں، عمارتیں بھی موجود ہیں، مگر معیارِ تعلیم، تعلیمی ماحول، اساتذہ کی دستیابی اور انتظامی کمزوریوں نے اکثر ان اداروں کو ان مقاصد تک پہنچنے نہیں دیا جن کے لیے وہ قائم کیے گئے تھے۔ سیاسی مداخلت، ناقص انتظامی ڈھانچہ اور تعلیمی شعبے میں عدم توجہی نے کئی علاقوں کی طرح بلیدہ کے تعلیمی سفر کو بھی متاثر کیا۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستی نظام کمزور پڑ جائے تو بعض اوقات معاشرے کے اندر سے ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو اپنی ذاتی صلاحیت، وسائل اور وژن کے ذریعے تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ بلیدہ میں نجی تعلیمی نظام کا آغاز سن 2000 کے بعد ایک ایسے ہی تعلیمی شعور کے نتیجے میں ہوا جس نے آہستہ آہستہ علاقے میں مثبت نتائج دینا شروع کیے۔
انہی کوششوں کے تسلسل میں ساچ گرائمر اسکول کا قیام عمل میں آیا، جو آج بلیدہ کے سب سے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ادارے کی انفرادیت صرف اس کے تعلیمی ڈھانچے میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس کی مکمل سرپرستی اور مالی ذمہ داری بلیدہ کی معروف سماجی اور کاروباری شخصیت حاجی برکت بلیدی نے اپنے ذاتی وسائل سے اٹھا رکھی ہے۔
حاجی برکت بلیدی کی تعلیمی خدمات صرف ساچ گرائمر اسکول تک محدود نہیں رہیں۔ اسکول کے قیام سے قبل بھی وہ بلیدہ کے مختلف نجی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم سینکڑوں طلبہ و طالبات کی فیسیں، کتابیں، یونیفارمز اور دیگر ضروری تعلیمی اخراجات برداشت کرتے رہے ہیں تاکہ غربت کسی بچے کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
ساچ گرائمر اسکول کا پہلا کیمپس اگست 2016 میں گلی کے مقام پر قائم کیا گیا۔ بعد ازاں ستمبر 2019 میں مِیناز کیمپس کا افتتاح کیا گیا، جس کے بعد ادارے کی سرگرمیوں میں نمایاں وسعت آئی۔ آج دونوں کیمپسوں میں تقریباً ایک ہزار طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ چالیس سے زائد تدریسی اور غیر تدریسی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔
یہ ایک معمولی ذمہ داری نہیں۔ اساتذہ کی تنخواہیں، انتظامی اخراجات، طلبہ کی کتابیں، یونیفارمز، کینٹین اور دیگر ضروریات پر ماہانہ لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، اور حاجی برکت بلیدی کے مطابق یہ تمام اخراجات اب تک ان کی ذاتی جیب سے پورے کیے جا رہے ہیں۔
تاہم شاید اس منصوبے کا سب سے متاثر کن مرحلہ اب سامنے آ رہا ہے۔
حال ہی میں تربت پریس کلب کے صحافیوں کے ایک وفد کو حاجی برکت بلیدی نے ساچ گرائمر اسکول کے نئے تعلیمی کمپلیکس کا دورہ کروایا۔ یہ کمپلیکس چھ ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جو حاجی برکت بلیدی کی ذاتی ملکیت ہے اور جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔
اس نئے کیمپس کا مشاہدہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ منصوبہ صرف ایک اسکول کی تعمیر نہیں بلکہ بلیدہ میں جدید تعلیمی معیار کی بنیاد رکھنے کی کوشش ہے۔
نئی عمارت میں جدید طرز کے کلاس رومز، سائنس لیبارٹری، کمپیوٹر لیب، لائبریری، اسٹڈی رومز، کانفرنس روم، آڈیٹوریم، کڈز پلے زون، انڈور گیمز اور فٹسال گراؤنڈ جیسی سہولیات شامل کی گئی ہیں۔ پری پرائمری بچوں کے لیے ائیرکنڈیشنڈ کلاس رومز کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ پورا تعلیمی کمپلیکس سولر سسٹم پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ توانائی کے مسائل تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔
منصوبے کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ شام کے اوقات میں اس عمارت کو عوامی استعمال کے لیے بھی کھولا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق یہاں ایک پبلک لائبریری قائم کی جائے گی جبکہ طلبہ کے لیے اکیڈمی کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ مفت انٹرنیٹ کی فراہمی، بلیدہ بھر کے طلبہ کے لیے داخلے کی پالیسی اور جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ماحول اس ادارے کو محض ایک اسکول کے بجائے ایک مکمل تعلیمی مرکز کی شکل دیتے ہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ حاجی برکت بلیدی کے مطابق اساتذہ کی بھرتی مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی تاکہ ادارے کے تعلیمی معیار کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جا سکے۔
منصوبے کے ذمہ داران اگست 2026 میں اس جدید تعلیمی کمپلیکس کے افتتاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ مضمون کسی شخصیت کی سیاسی وابستگی یا سماجی حیثیت کے تناظر میں نہیں بلکہ ایک اصولی نقطۂ نظر کے تحت تحریر کیا جا رہا ہے۔ معاشروں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی مثبت کوششوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہوتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر اچھے کام بھی سیاسی تعصبات کی نذر ہو جاتے ہیں اور ان کی اصل اہمیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
بلیدہ جیسے دور افتادہ علاقے میں اگر ایک شخص اپنے ذاتی وسائل سے ہزاروں بچوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا کرنے، جدید تعلیمی ڈھانچہ قائم کرنے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس عمل کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا اور اس کی مثبت جہتوں کو اجاگر کرنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے۔
تعلیم پر خرچ ہونے والا سرمایہ دراصل انسان پر خرچ ہونے والا سرمایہ ہے، اور انسان پر کی جانے والی سرمایہ کاری ہی وہ بنیاد ہے جس پر قوموں کا مستقبل استوار ہوتا ہے۔ ساچ گرائمر اسکول کا منصوبہ اسی سوچ کی ایک عملی مثال کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ وقت یقیناً اس کے نتائج کا فیصلہ کرے گا، لیکن آج یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بلیدہ میں تعلیم کے ایک نئے باب کی تحریر میں اس منصوبے کا کردار نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website