پٹرول پمپس مالکان اور پٹرول فروخت کرنے والے دکانداروں نے ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی سے مذاکرات کے بعد ہڑتال غیر مشروط طور پر ختم کرتے ہوئے پمپس اور دکانیں کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
پیر کی سہ پہر ہونے والی اس ملاقات میں پمپ مالکان اور دکان داروں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ نرخ بندی کے عمل میں انہیں اعتماد میں لیا جائے تاکہ قیمتوں کے تعین کے دوران ان کے مسائل اور مجبوریوں کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔
ملاقات میں تمام فریقین نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ پٹرول کی قیمت 175 روپے فی لیٹر پر اتفاق کیا اور اس سے زائد نرخ پر فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔
اس موقع پر یہ بھی طے پایا کہ آئندہ نرخ بندی کنٹانی اور جیونی کے ریٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی جس کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ کمیٹی میں ڈپو مالکان، پٹرول پمپس کے دو نمائندے اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندے شامل ہوں گے جب کہ قیمتوں کے تعین کا اختیار اسی کمیٹی کے پاس ہوگا۔
مزید یہ کہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہو تو پہلے سے موجود اسٹاک پر نرخ نہیں بڑھائے جائیں گے اور کوئی بھی دکاندار یا پمپ مالک ازخود قیمت مقرر نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے گزشتہ روز تربت میں پٹرول کی قیمت 175 روپے فی لیٹر مقرر کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی ہدایت کی تھی جس کے خلاف بعض پمپ مالکان نے ہڑتال کرتے ہوئے دکانیں بند کر دی تھیں۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کیا جس کے بعد مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کر لیا گیا۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website