بہادر شاہ ظفر کا معروف اور زبان زدِ عام شعر ہے کہ “بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی”
یہ شعر محض ایک عاشق مزاج شاعر کی اندرونی و داخلی کیفیت کا بھرے مجمع میں نہ صرف لطیف اظہار ہے بلکہ ہر اُس دور کے معاشرتی حقائق اور ماحول کی ترجمانی اور عکاسی بھی کرتا ہے جہاں سچ کہنا جرم اور حق گوئی جان کے لیے خطرہ بن جائے موجودہ دور میں یہ شعر ہمارے معاشرتی نابرابری اور “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” والے حالات و واقعات پر مکمل صادق آتا ہے جہاں عام آدمی کے لیے سچ بولنا ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا اور سماجی نابرابری ومعاشرتی برائیوں کو بے نقاب کرنا واقعی حقیقی معنوں میں “جان جوکھوں کا کام” بنتا جا رہا ہے سچ کی قیمت اور خوف کا ماحول ہونے کے باوجود آج کا دور بظاہر آزادیِ اظہار کا دور کہلاتا ہے لیکن عملی طور پر خوف، دباؤ اور گروہی و ذاتی مفادات کے جال نے آج ہمارے معاشرے کو اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ ایک عام شہری اپنی رائے دینے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے سرکاری اداروں میں بیجا سیاسی مداخلت کی وجہ سے میرٹ اور رول آف لاء کی شدید فقدان ،باہمی کھینچا تانی اختیارات کی جنگ، سیاسی مقاصد کے لیے ذاتی و گروہی مفادات کے حصول کی نہ ختم ہونے والی دوڑ اور بیوروکریسی کی شاطرانہ حیلے و رکاوٹیں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتی ہیں جس سے معاشرے میں شفافیت، میرٹ، رول آف لاء اور جوابدہی کی شدید فقدان، نتیجتاً جو شخص بدعنوانی اقربا پروری، نااہلی یا اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے معاشرتی ناسور کی نشاندہی کرتا ہے وہ خود مشکلات کا شکار بنا دیا جاتا ہے یہی وہ معاشرتی حالات و کیفیات ہیں جنہیں بہادر شاہ ظفر کے شعر میں “محفل کی تبدیلی ”یعنی معاشرتی اقدار میں زوال پذیری سے تعبیر کیا جا سکتا ہے یعنی وقت و حالات اس قدر بدل کر ناگفتہ بہ ہو چکے ہیں کہ کھل کر بات کرنا بھی اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا ریاستی و سیاسی ہتھکنڈے اور عوامی مسائل اس وقت سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں جب ملکی ادارے باہمی ہم آہنگی کے بجائے خود آپس میں کشمکش و تضاد کا شکار ہوں اس کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے تعلیمی، معیشت ، صحت اور دیگر عوامی خدمات کے شعبے اس کھینچا تانی کی نذر ہو جاتے ہیں قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سرکاری اداروں میں غیر قانونی اور بیجا سیاسی مداخلت اور میرٹ و رول آف لاء کی پامالی معاشرتی ناانصافی کو جنم دیتی ہے عام شہری مہنگائی بے روزگاری بیماری عدم تحفظ اور بنیادی معاشرتی سہولیات کی کمی جیسے مسائل میں گر کر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے مگر ان مسائل کی اصل وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان پر بات کرنا نہ صرف ایک حساس بلکہ ایک ممنوعہ موضوع بن جاتا ہے یوں معاشرہ ایک اجتماعی خاموشی کے ساتھ جمود اور بیگانگی کا شکار ہو جاتا ہے سماجی برائیوں کی جڑ صرف فرد کی انفرادی کمزوری نہیں بلکہ رائج الوقت نظام کی خامیاں بھی ہیں جب قانون کی عملداری کمزور ہو احتساب غیر مؤثر ہو اور طاقت ور عناصر خود کو ہر قسم کی جوابدہی سے مبرا سمجھیں تو استحصال اور جبر معاشرے کا معمول بن جاتے ہیں معاشرے میں اس استحصال کے ذمہ دار وہ عناصر ہوتے ہیں جو اختیارات کو اپنے ذاتی و گروہی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں قومی وسائل کی منصفانہ اور برابر تقسیم میں یہی استحصالی عناصر سب سے زیادہ رکاوٹ بنتے ہیں میرٹ، شفافیت اور رول آف لا کو بالکل نظرانداز کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی اختلافِ رائے کو دبانے کی حتیٰ الوسع کوشش کی جاتی ہے ان استحصالی عناصر کا تعلق چاہے کسی بھی شعبے سے ہو ان کی مشترکہ خصوصیت طاقت و اختیارات کا ناجائز اور بے دریغ استعمال ہوتا ہے کیونکہ ان سب کے مفادات مشترک ہوتے ہیں ایسے گھٹن زدہ ماحول میں اہلِ قلم دانشوروں اور باشعور شہریوں کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے اگرچہ خطرات موجود ہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی ہمیشہ اُن افراد کی بدولت آئی ہے جنہوں نے حالات کی سختی کے باوجود سچ کا علم بلند تھامے رکھا بہادر شاہ ظفر کے اس شعر کا پیغام اور اصل مدعا بھی یہی ہے کہ مشکل حالات میں بھی ضرور حق بات کرنا چاہئے کیونکہ خاموشی اور بیگانگی ناانصافی کو پروان چڑھاتی ہے البتہ یہ ازحد ضروری ہے کہ اس طرح کی جدوجہد دانشمندی قانون کے دائرے اور اخلاقی حدود کے اندر رہ کر کی جائے تاکہ معاشرہ ایک اور سماجی تصادم اور ٹکراؤ کے بجائے ایک بہتر اور قابلِ قبول اصلاحِ احوال کی طرف گامزن ہو کیونکہ “بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی” آج کے دور میں اجتماعی سراسیمگی اور بے چینی کی صورت اختیار کر چکی ہے لیکن اگر معاشرہ اپنی اصلاحِ احوال چاہتا ہے تو اسے اس دور کے مشکلات کے باوجود سچ اور حقائق کو اجاگر کرنے کے لیے بولنا اور لکھنا ہوگا اگرچہ یہ دشوار ہے لیکن یہی وہ راستہ ہے جو گھٹن زدہ فضا کو صاف کر سکتا ہے جب ملکی ادارے ہم آہنگی، شفافیت، رول آف لا اور انصاف کے آفاقی اصولوں کو اپنائیں گے اور عوام بھی شعور و ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے تو وہ دن دور نہیں جب محفل یعنی ہمارا معاشرہ پھر سے ایسی ہو جائے گی جہاں بات کرنا مشکل نہ رہے گا۔
Balochistan Updates | Latest News Balochistan Updates News website