قلات،گرفتار قائدین کی رہائی اور مطالبات کے حق میں ملازمین کا احتجاجی مظاہرہ، دفاتر و تعلیمی ادارے پانچویں روز بھی بند

 

قلات (بلوچستان اپڈیٹس \نامہ نگار) مشترکہ ملازمین گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام قلات میں اپنے گرفتار قائدین کی رہائی اور مطالبات کے حق میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

احتجاجی ملازمین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ان کے گرفتار قائدین کو رہا کرے اور بلوچستان کے سرکاری ملازمین کو دیگر صوبوں کے مساوی مراعات فراہم کرے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں پرامن احتجاج کرنے والے ملازمین پر حکومت نے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا راستہ اپنایا، جو قابل مذمت ہے۔

احتجاجی ملازمین نے الزام لگایا کہ بلوچستان حکومت کا رویہ ملازمین کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا ہے، جب کہ ہر سال اربوں روپے کے بجٹ لیپس ہو جاتے ہیں لیکن عوامی فلاح کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں آتا۔

پانچ روز سے جاری احتجاج کے باعث سرکاری دفاتر، اسکول اور کالجز بند ہیں، جس سے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ ملازمین نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے قائدین کو رہا نہیں کیا جاتا اور مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

Spread the love

Check Also

بلوچستان کی شاہراہوں پر ایک ہفتے میں 538 حادثات؛ 1122 کی بروقت کارروائی، 695 افراد کو طبی امداد فراہم

  کوئٹہ : بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک حادثات کی صورتحال تشویشناک رہی۔ میڈیکل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے